Zahid Islam

Zahid Islam

Executive Director Sangat Development Foundation, Former National Cooridinator, AF
میں برملا اعتراف کرتا ہوں کہ ڈولپمنٹ سیکٹر میں میری ابتدائی تربیت عورت فاؤنڈیشن سے منسلک ہوکرہی ہوئی

عورت فائونڈیشن کے 2026 میں چالیس سال پورے ہوئے ہیں۔ اس کے بانی تو آج ہم میں نہیں مگر میں انہیں رو ز اول سے جانتا ہوں۔ اور کئی حوالوں سے ان کے ساتھ ملاقاتیں رہی ہیں۔ پہلی دفعہ 1974/75سے لگ بھگ ملاقاتیں ہوتی رہی تھیں۔ جو پیپلز لیبر فرنٹ بابا رفعت کے توسط سے ہوئی تھی لہذا میں لاہور سے اپنے گروپ کی خواتین کے ہمراہ راولپنڈی گیا ،وہاں ایک مشترکہ سیاسی پروگرام تھا۔ جس کے حوالے سے ملاقاتیں ہوئیں لہذا بحث و مباحثے کے نتیجے میں رابطہ کمیٹی تشکیل پائی تھی۔ پھر تنظیمی وابستگی اکتوبر 1995 میں ہوئی، جب ظفر ملک ایڈووکیٹ نے مجھے ترغیب دی تو نگار احمد سے ملاقات ہوئی۔ ایل ڈی فلیٹس لارنس پر دفتر ہوتا تھا اورمیں نے پارٹ ٹائم ملازمت شروع کرلی۔ ہفتے میں صرف دو دن کے چند گھنٹوں پر محیط ملازمت میں نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ میرا سفر عورت فاؤنڈیشن کے ہیڈ آفس اسلام آباد منتقل ہو گیا اور 2001 تک جاری رہا۔
نگار احمد، شہلا ضیا، منی بہن، مصباح، عظمی، زبیر یوسف ،جمیل صاحب، جمال احمد اس زمانے کے ساتھی تھے۔ میری وابسطگی تو لیجسلیٹو واچ پروگرام کے حوالے سے ہوئی تھی۔ اپریل 1996 میں ایک نیا پروجیکٹ سیاسی تعلیم برائے خواتین کا آغاز ہوا جس کی ڈائیریکٹر شہلا ضیا، جب کہ اس کے کوآرڈینیٹر جناب چارلس امجد علی تھے۔ ان دنوں کرسچن اسٹڈی سنٹر کے بھی کوآرڈینیٹر تھے۔ پہلی ورکشاپ اس پروجیکٹ کے تحت اپریل 1996 میں ملتان میں پاسٹر انسٹیٹیوٹ آف لاہور میں منعقد ہوئی جس میں ہم کچھ اسٹاف ممبران لاہور گئے تھے۔ اس پانچ روزہ ریزیڈینشل ورکشاپ میں کوئی پچاس کے قریب شرکا سے ملنے کا موقع ملا جن میں کئی ایک کو میں پہلے سے جانتا تھا۔ سیاسی حوالوں اور مزدور تحریک سے وابسطگی کی بنا پر اس ورکشاپ میں روزانہ کے دو یا تین سیشن ہوتے۔ ڈاکٹر چارلس امجد علی بھی سپیکر تھے، جبکہ روزانہ رات کھانے کے بعد کلچرل پروگرام چلتا جس میں عطاالرحمٰن کے سنگیت سے سماں بندھ جاتا۔ یہاں قیام کے دوران نگار احمد، شہلا اور منی بہن سے قریبی گفتگوکے مواقع بھی چلے۔ واپس آئے تو مجھے باقائدہ اس پروگرام کا پنجاب کا کوآرڈینیٹ بنایا گیا۔ یہ اپریل کا واقعہ ہے مئی میں ڈاکٹر چارلس نے استعیفٰی دیدیا تو عورت فائونڈیشن نے مجھے نیشنل کوآرڈینیٹر کی بھرتی کے لیے اسلام آباد شفٹ ہونے کا کہا۔ مئی کے آخر میں اسلام آباد چلاگیا اس وقت وہاں کا آفس ایف 6 سپرمارکیٹ کے قریب ہی تھا۔ یہاں مجھے سائرہ ہاشمی ، نذیر صاحب ، لقمان صاحب ، انکا بھانجا عمران اور اسلم خان اور نعمت کے ساتھ کام کرنے کا موقع حاصل ہوا۔
عورت فاؤنڈیشن میں 6 سالہ وابستگی میں مجھے پورے ملک میں گھومنے کے مواقع ملے 600 کے قریب سرگرم کارکن توصرف میرے سے وابستہ پراجیکٹ میں شریک کار تھے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں تین سالہ قیام کے دوران مجھےاسلام آباد آفس کو مکمل علاقائی رابطہ کاری کا آفس تھا مجھے مظفر آباد، مانسہرہ، ہری پور جہلم راولپنڈی اور گجرات میں سٹیزن رابطہ کمیٹیاں برائے خواتین امپاورمنٹ کے حوالے سے دست پزیری کا موقعہ ملا، گجرات میں سعیدہ بیگم، جہلم میں شوکت علی ایڈووکیٹ، ہری پور میں ملک عبدالرشید، لالامونس مانسہرہ میں ملک اکبرکی دریافت میرے ذریعے ہی ہوئی اور پھر یہ سلسلہ چکوال، بٹ گرام تک پھیل گیا۔ اسلم شاہ کے ساتھ پورے ہزارہ ڈویژن کے ہر مقام تک جانے کا موقع ملا۔ سال 1997میں آدم شماری ہوئی تو ہزارہ ڈویژن میں بڑی سطح پر عوامی رابطہ مہم جاری رہی جس میں میرے ساتھ فواد حیدر اور آپا ممتاز ، فرح زبیر بھی شریک رہی ہیں۔ اسلام آباد قیام کے دوران بھی مجھے نعیم مرزا ، سلیم شاہ اور فقیر حسین کو بھی عورت فاؤونڈیشن کا حصہ بنانے کا اعزاز حاصل ہوا اور جو بہت دیر تک عورت فاؤنڈیشن کا اثاثہ رہے۔
میں برملا اعتراف کرتا ہوں کہ ڈولپمنٹ سیکٹر میں میری ابتدائی تربیت عورت فاؤنڈیشن سے منسلک ہوکرہی ہوئی ، مجھے فخر ہے میں عورتوں کے حقوق کے لئے نصف صدی سے متحرک لوگوں کے ساتھ رہاہوں ، رخشندہ ناز، عاصم ملک، نعیم مرزا، سلمان عابد، عبید اللہ چودھری، شاہد فیاض، عائشہ، یعقوب، نصراللہ، یونس خالد، نسرین زہرا، مہناز رحمٰن، اعجاز درانی، ایاز کے ساتھ کام کرنے کا زبردست تجربہ رہا۔