Salman Abid

Salman Abid

Public Policy Advisor, Executive Director, Idea Think Tank Jouranlist and Columnist
میں عورت فاؤنڈیشن کی چالیس برس کی جدوجہد پر مبارکباد دیتا ہوں اور ان کی اس تحریک میں کام کرنے پر اپنے لیے بھی اعزاز سمجھتا ہوں۔

پاکستان میں عورتوں کی تحریک،ترقی اور ان کے سیاسی،سماجی اور معاشی حقوق کی جدوجہد میں عورت فاؤنڈیشن جیسی معروف سول سوسائٹی یا عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کا ایک بڑا اور معتبر نام کو ہماری جدوجہد کی تاریخ سے کسی بھی طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

عورت فاؤنڈیشن کی بانی سربراہ نگار احمد اس تحریک کا ایک بڑا محرک ثابت ہوئی۔ان کے ساتھ شہلا ضیا,انیس ہارون،شہنازاحمد اور رخشندہ ناز سمیت نعیم مرزا اس تحریک کے اہم ساتھی تھے۔

کمیونٹی کی سطح پر سیاسی اور سماجی اور معلومات پر شعور کی بیداری کی مہم ہو یا ملک میں پالیسی سازی سمیت قانون سازی تک کی عملی جدوجہد بھی اس تحریک کا اہم کام ہے۔

سیاست،سیاسی جماعتوں،منتخب قیادت یا حکومت،سرکاری اداروں،وکلا,میڈیا اور سول سوسائٹی تک ان کا منفرد اور اپنی اعلی ساکھ بھی رکھتا ہے۔
عورتوں کی تحریک میں کمزور عورتوں کو آواز دینا، قیادت اور اعتماد دینا،صلاحیتیں پیدا کرنا،ایڈوکیسی وکالت اور لابی یا تربیت کا عمل ان کے کام کی اہم
خوبیاں ہیں۔ بالخصوص جنرل ضیا الحق کی عورتوں کے خلاف نام نہاد اسلامائزیشن کی پالیسی کے جدوجہد ان کے کام کا حصہ ہے۔

میں عورت فاؤنڈیشن کی چالیس برس کی جدوجہد پر مبارکباد دیتا ہوں اور ان کی اس تحریک میں کام کرنے پر اپنے لیے بھی اعزاز سمجھتا ہوں