Shahbaz Khan Barozai

Shahbaz Khan Barozai

Coordinator, Citizen Action Committee (CAC), Sibi
ہم نے عورت کی عزت اور قدر عورت فاؤنڈیشن کے ساتھ کام کرتے ہوئے سیکھی۔

عورت فاؤنڈیشن کے ساتھ ہمارا پہلا تعارف اور تعلق 1994 میں قائم ہوا اور اب تک 32 سال بیت چکے ہیں۔ یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کہ بلوچستان میں ابتدا ہی سے ہم اس ادارے کے ساتھ وابستہ رہے۔ یہ رشتہ صرف تعاون کا نہیں بلکہ ایک ایسے عزم کا ہے جس نے ہمیں ہمیشہ عورت فاؤنڈیشن کے رضاکار اور ضلع سبی میں سٹیزن ایکشن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر کے طور پر متعارف کروایا۔ آج بھی ضلع سبی میں عورت فاؤنڈیشن کا دفتر رضاکارانہ طور پر فعال ہے اور خواتین مختلف سماجی مسائل کے حل کے لیے ہم سے رجوع کرتی ہیں۔
خواتین کے حقوق کے شعبے میں بے شمار تنظیموں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، لیکن عورت فاؤنڈیشن کے ساتھ سفر نے ہماری سوچ اور زندگی کو نئی سمت دی۔ محترمہ نگار احمد کی جو خداداد صلاحیت، انسان دوستی، اور محبت ہم نے دیکھی، اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ ان کے وژن، رہنمائی اور تربیت نے نہ صرف ہماری راہ متعین کی بلکہ بلوچستان بھر میں کمیونٹی سطح پر عورت فاؤنڈیشن کا پیغام پھیلانے کا موقع بھی عطا کیا۔

ہم نے عورت کی عزت اور قدر عورت فاؤنڈیشن کے ساتھ کام کرتے ہوئے سیکھی۔ سیاسی تعلیم کے پروگرام میں تربیت کے دوران یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ سیاسی عمل میں خواتین کی شمولیت کتنی ضروری ہے۔ انہی تربیتی پروگرامز نے ہمیں سماجی شعبے اور مختلف سرکاری و غیرسرکاری اداروں کے ساتھ جڑنا سکھایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ضلع سبی میں الیکشن کمیشن، نادرا، ضلعی انتظامیہ، اور بلدیاتی ادارے، خاص طور پر انتخابات کے دوران، ہم سے مشاورت کرتے ہیں اور بطور ماسٹر ٹرینر ہمیں مدعو کرتے ہیں۔
عورت فاؤنڈیشن نے پورے پاکستان میں ضلعی سطح پر ایک مضبوط رضاکار نیٹ ورک تشکیل دیا، جس میں سٹیزن ایکشن کمیٹیاں اور ضلعی کوآرڈینیشن کمیٹیاں قابل ذکر ہے، جنہوں نے عورت فاؤنڈیشن کے وژن کو گھر گھر پہنچایا۔ خواتین کے حقوق سے متعلق ملک میں بننے والے اہم قوانین کے پیچھے عورت فاؤنڈیشن کے سٹاف اور اس کے رضا کاروں کی مسلسل محنت اور طویل جدوجہد شامل ہے۔

پاکستان اور بلوچستان کی سطح پر عورت فاؤنڈیشن نے خواتین کو امن کے معمار کے طور پر مستحکم کیا، تعلیم کی اہمیت اجاگر کی، اور حقوقِ نسواں کے حوالے سے مؤثر و طاقتور آگاہی مہمات چلائیں، جنہوں نے عورت فاونڈیشن کو قومی سطح پر معتبر مقام دیا۔ انسانی حقوق، مساوات، قیادت، سیاسی شعور، اور لیڈرشپ کے میدان میں عورت فاؤنڈیشن کے پروگراموں کے اثرات آج بھی نمایاں طور پر محسوس کیے جاتے ہیں۔یہ تحریک صرف خواتین تک محدود نہیں رہی، بلکہ علما، وکلا، پولیس حکام، مقامی حکومتوں کے نمائندوں اور بے شمار مرد بھی اس کا حصہ بنے۔ یہی وجہ ہے کہ عورت فاؤنڈیشن آج پورے پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور تشدد کے خاتمے کی ایک مضبوط علامت سمجھی جاتی ہے۔
بلوچستان میں عورت فاؤنڈیشن کے ساتھ وابستہ رہنے والے تمام افراد نے خواتین کی ترقی، خودمختاری اور کامیابی کے لیے نئی راہیں ہموار کیں۔ یہ ادارہ وہ بنیاد ہے جس نے خواتین کی سیاسی و معاشی عمل میں شمولیت کے دروازے کھولے اور خواتین پر تشدد کے خلاف آواز بلند کرنا آسان بنایا۔ یہ تحریک آج بھی پوری قوت کے ساتھ جاری ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے امید کا روشن چراغ ہے